بھٹکل ،31؍جنوری (ایس او نیوز) چار دن قبل چوتنی کی رہنے والی خاتون نیتراوتی اور اس کے رشتہ داروں نے بھٹکل ٹاون پولیس اسٹیشن میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے شیرالی کے رہنے والے چند لوگوں کے خلاف شکایت درج کروائی تھی کہ وہ لوگ جعلی فیس بک اکاونٹ سے اس کے خلاف ہتک آمیز پیغامات پوسٹ کررہے ہیں۔ پولیس نے اس ضمن میں ایف آئی آر درج کرنے کی بات بھی کہی تھی۔ لیکن ملزمین کے خلاف اب تک کارروائی نہ ہونے سے یہ معاملہ مزید طول پکڑتا جارہا ہے۔
پولیس اسٹیشن میں دوبارہ احتجاج: پولیس کی طرف سے ملزموں کے خلاف کارروائی میں دلچسپی نہ دکھانے اور سست روی کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے متاثرہ خاتون کے رشتے دار اور ہندو تنظیموں کے اراکین نے دوبارہ پولیس اسٹیشن پہنچ کراحتجاج کیا اور ملزموں کو فوراً گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس انسپکٹر دیواکر نے احتجاجی مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کے بارے میں ہتک آمیز باتیں پوسٹ کرنے والے ملزمین چندرو نائک، ناگ راج پٹگار اور سبرامنیا کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔ آئندہ 10دن کے اندر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کیا یہ بی جے پی کی اندرونی سیاست کا معاملہ ہے؟: اس موقع پرہندو تنظیم کے کارکن راگھو نائک نے کہا کہ خاتون کے بارے میں جو ہتک آمیز باتیں کہی گئی ہیں اس سے شہریوں کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اسے یہیں پر روک دینا چاہیے۔ ملزم چندرو نائک بھٹکل رکن اسمبلی کا کار ڈرائیور اور بی جے پی یووا مورچہ کا نائب صدر ہے۔ جبکہ بقیہ ملزمین رکن اسمبلی کے قریبی لوگ ہیں۔ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے نقلی ہندوتوا کے نام پر اس خاتون کے علاوہ ہندو تنظیموں اور بی جے پی کے اصل کارکنان کے خلاف بے بنیاد باتیں لکھی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہم ان لوگوں کو دکھادیں گے کہ ہندو تنظیمیں کیا ہوتی ہیں۔ مظاہرے کے دوران تلسی داس نائک، ماروتی نائک، راجو نائک سمیت ہندو تنظیموں سے وابستہ کئی کارکنان موجود تھے۔
پولیس اسٹیشن میں درج ہوئیں مزید شکایتیں : چوتنی کی خاتون نے چندرو نائک اور اس کے جن دوسرے ساتھیوں کے خلاف شکایت درج کروائی تھی انہی ملزمین کے خلاف بھٹکل ٹاون پولیس اسٹیشن میں مزید دو شکایتیں درج کروائی گئی ہیں۔ ایک طرف 'کراولی سماچار' ویب سائٹ بھٹکل کے ایڈیٹر راگھو ملیا اور دیگر افراد نے شکایت درج کروائی ہے جس کے مطابق مذکورہ بالا ملزمین نے 'کروالی سماچار' کے نام سے ہی ایک اور نقلی فیس بک اکاونٹ شروع کیا ہے اور اس میں جھوٹی اور بے بنیاد خبریں اور پیغام پوسٹ کیے جارہے ہیں۔
ایم ایل اے کے خلاف بھی پیغامات؟!: دوسری طرف موڈ بھٹکل کے رہنے والے رکشہ ڈرائیور راگھویندرا نائک نے بھٹکل ٹاون پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتے ہوئے دنیش ولد ماستی نائک پرالزام لگایا ہے کہ اس نے ' دینو ہنٹر' نام سے فیس بک اکاونٹ شروع کر رکھا ہے جس میں رکن اسمبلی سنیل نائک اور ان کے بھائی سدھارتھ نائک کے خلاف ہتک آمیز باتیں پوسٹ کی جارہی ہیں۔ دنیش کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حرکت سے بھٹکل کی ترقی پر منفی اثرات پڑِیں گے۔
کیا پولیس کی خاموشی نے ہمت بڑھائی ؟: بھٹکل میں جاری اس سوشیل میڈیا جنگ کے تعلق سے جانکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2-3 برسوں سے مقامی طور پر سوشیل میڈیا میں اپنے مخالفین کی تذلیل کرنے اور اینٹی پروپگینڈا کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ لیکن پولیس نے اس ضمن میں کبھی بھی کڑی کارروائی نہیں کی ہے۔ سائبر کرائم پولیس سے شکایت کرنے کے باوجود بھی ملزمین کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس سے شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور اب وہ لوگ بے لگام ہوگئے ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ جو چاہے کرلیں ان کا کوئی کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔
کیا قانون کے دو پیمانے ہیں؟: ان حالات کو دیکھتے ہوئے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ یا پھر پولیس ڈپارٹمنٹ کے خلاف اگر کوئی سوشیل میڈیا پر کچھ غلط سلط کہتا ہے تو پولیس والے اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں اوراس کے خلاف کارروائی میں ذرا دیر نہیں کرتے تو پھر عام آدمی کے معاملے میں قانون کے رکھوالے اتنی چستی اور دلچسپی کیوں نہیں دکھاتے؟ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عام افراد اور خاص طبقہ کے لئے قانون کے دو الگ الگ پیمانے ہیں؟
بہرحال عوام کا احساس ہے کہ سوشیل میڈیا پر ایک دوسرے کی تذلیل کے رجحان میں جو روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور جو صورت حال اب بھٹکل میں پیدا ہوئی ہے اس پر اگر پولیس کی طرف سے مناسب اور کڑی کارروائی نہیں کی گئی تو یقیناً آنے والوں دنوں میں شہریوں کو خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔